فوج سے دھوکہ کیاجارہاہے حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہو گیا, جلد فائنل کال دونگا طاہر القادری

اس نظام کو جمہوریت نہیں کہتے جہاں کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں ، حکمران عیاشیوں میں مصروف، آئین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں حکمران ایجنڈے کے تحت پاکستان کا دفاع کمزور کر رہے ہیں،ملک کو سیاسی آ مریت سے نجات دلا کر رہیں گے ، 60شہروں میں ریلیوں سے ویڈیو لنک پر خطاب لاہور(جنرل رپورٹرسے ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پیمراکی کارروائی کے نام پر فوج کے ساتھ بھی دھوکہ کیاجارہاہے ، ملک میں نظام ہے نہ جمہوریت، حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہوچکا جس کیلئے جلد فائنل کال دونگا۔ عوامی تحریک کے زیراہتمام 60شہروں میں ریلیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ملک میں نظام ہے نہ جمہوریت، پارلیمنٹ ٹیکس چوروں سے بھری ہوئی ہے ،ملکی وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے ، حکمران عیاشیوں میں مصروف، آئین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں جبکہ حکمران ایجنڈے کے تحت ملکی دفاع کوکمزور کر رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ لاہور، کراچی، ملتان، راولپنڈی اور کوئٹہ سمیت 60شہروں میں حکومت کیخلاف عوامی تحریک کے زیراہتمام احتجاجی ریلیاں، جلسے اوردھرنے دیئے گئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ا س نظام کو جمہوریت نہیں کہتے جہاں کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں، مائیں غربت کے باعث اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تمام طبقات کو برابری کے حقوق دیئے جاتے ہیں اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ کیا جاتا ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ، ہم ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں اور ملک کو سیاسی آ مریت سے نجات دلا کر رہیں گے جس میں اقتدار ظالم حکمرانوں سے عوام کو منتقل ہوگا ۔علامہ طاہر القادری نے کہا کہ پاکستان کی ازسر نو تعمیر کا وقت قریب آگیا ہے ، احتجاجی ریلیوں میں لاکھوں افراد نے شامل ہو کر ثابت کردیا کہ وہ انقلاب کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب باریاں لگانے کا دور گزرچکا ، ظلم کی سیاہ رات ختم ہو نے والی ہے ، عوامی تحریک جمہوریت کو ڈی ریل نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی چاہتی ہے ،ملک میں ایسا نظام لائیں گے جس میں وزیر اعظم براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب کیا جائے گا جبکہ اقتدار میں ملک میں 30 سے 35 صوبے بنائیں گے اور پہلا صوبہ ہزارہ ہو گا۔ طاہر القادری نے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ملک بھر میں60 سے زائدشہروں سے لاکھوں افراد احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے ، عوام کو آئینی حق دے کر میدان کھلا رکھا ہوتا تو حکمرانوں کو دن میں تارے نظر آ جاتے ۔ انہوں نے کہاکہ 65سالوں سے عوام قائد اعظم کے پاکستان کو دیکھنے کیلئے ترس رہے ہیں ۔ظالم حکمرانوں نے غریبوں کو جمہوریت کے نام پر کئی بار دھو کہ دیا ہے لیکن اب ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہونے والی ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب کے بعد کے نظام حکومت کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترکی،جنوبی کوریا،جاپان،چائنہ ،امریکہ ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے نظام حکومت کی اپنے ملکی حالات کے مطابق کاپی کریں گے ۔مرکز کے پاس دفاع،خارجہ،ہائر ایجوکیشن ،یکساں نصاب تعلیم ،قانون اور انرجی کے محکمے ہونگے ۔ عوام کو مفت اور جلد انصاف کی فراہمی کے حوالے سے نئے بننے والے 35صوبوں میں سپریم کورٹس،ضلعی سطح پر ہائیکورٹس،تحصیل کی سطح پر سیشن کورٹس،یونین کونسل کورٹس اور وارڈ کی سطح پر انصاف کمیٹیاں قائم کی جائینگی جہاں غریبوں کیلئے مفت سرکاری وکیل ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ فوجداری مقدمہ کی اطلاع پر فوری مقدمہ درج ہو گا اور تین دن کے اندر چالان مکمل کرنے کے بعد ایک ماہ میں فیصلہ اور 3ماہ میں اپیلیں مکمل سن کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ دیوانی مقدموں کے فیصلے 6 ماہ میں کئے جائینگے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top