پختونخوا اور کورین حکومت کے درمیان پن بجلی کے معاہدے پردستخط کیے گئے، معاہدے کے تحت سوات،کالام میں 197 میگاواٹ پن بجلی پیداکی جائے گی، اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہاکہ کسی معاہدے کومکمل ہونے میں 7 سے 8 سال لگ جاتے ہیں،پختونخوا میں 2200 میگاواٹ بجلی کے معاہدے کیے، بجلی سسٹم میں آنے میں وقت لگتا ہے۔

پرویز خٹک نے کہا سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرنیکی کوشش کر رہے ہیں مگر جب تک سسٹم اپ گریڈ نہیں ہوتا لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوسکتی، پرویزخٹک نے کہا نگران وزیراعلیٰ کیلیے اپوزیشن لیڈر سے بات ہوئی ہے۔انھوں نے کہاکہ وقت آنے پر نگران وزیراعلیٰ کا نام دے دینگے۔ پرویزخٹک نے کہاکہ ہمارے صوبے کو 2400 میگاواٹ بجلی درکارہے،مگر ہم 1800 میگاواٹ سے زیادہ بجلی اٹھا نہیں سکتے،چیف جسٹس کو ہمارے صوبے میں تبدیلی نظر آگئی ہے،صرف پانچ منٹ میں تبدیلی نظر نہیں آسکتی۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top