احسن اقبال نے کہا کہ میرے ساتھ جوواقعہ پیش آیا اس سے میں نے اس بات کوزیادہ یقین سے جانا ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ بڑا ہوتا ہے، مجھے لگنے والی گولی ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ اللہ سب سے بڑا ہے، میرے جسم میں لگی گولی نے میرا بازو پاش پاش کردیا لیکن میرے جذبے پرایک نقطہ بھی فرق نہیں آیا۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ ڈپریشن پیدا کرنے والے لوگ سقراط اور بقراط بنے ہوئے ہیں، ہرشام وہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ پاکستان کا ستیا ناس اوربیڑا غرق ہوگیا، یہ شاید عوام کے نہیں ڈپریشن کی دوائیاں بیچنے والوں کے نمائندے ہیں، اقتصادی ترقی چوکے چھکوں کا میچ نہیں یہ ٹیسٹ میچ کی طرح ہے جس میں اسی کی جیت ہوگی کہ جو زیادہ وقت اور تحمل کے ساتھ کھیلے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook