مودی بھاری مینڈیٹ لے کر کامیاب انتہا پسند ہندوؤں‌کا جشن

بھارت کے عوام بھارتیہ جنتا پارٹی پر مہربان ہوگئے، 14 ریاستوں میں کلین سویپ، اتحادیوں سمیت 335 نشستوں پر کامیاب، کانگریس کو 62 اور عام آدمی پارٹی کو صرف 5 نشستیں مل سکیں مقبوضہ کشمیر میں کانگریس کامیاب، ریکارڈ توڑ ووٹنگ ہوئی ، الیکشن کمیشن،سونیا گاندھی اور من موہن سنگھ کی نریندر مودی کو مبارک باد، بھارت کے اچھے دن آنے والے ہیں، متوقع وزیر اعظم نئی دہلی (دنیا نیوز، خبر ایجنسیاں) بھارت میں عام ا نتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جن کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ میدان مار لیا ہے۔ کانگریس کو عبرتناک اور تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی جے پی اب تک 251نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ بی جے پی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) میں اس کے اتحادیوں کی مجموعی نشستیں 335سے زائد ہیں۔ نریندر مودی 21مئی کو بارہ رکنی کابینہ کے ساتھ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں پچاس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والی کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے شکست تسلیم کرلی ہے۔ کانگریس کو 62 نشستیں مل سکی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو بھی بھارتی عوام نے مسترد کردیا ہے۔ وہ صرف 5 نشستیں لےپائی ہے۔ گجرات اور راجستھان سمیت 14 ریاستوں میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے کلین سویپ کیا ہے۔ گجرات میں لوک سبھا کی تمام 26 نشستیں بی جے پی نے جیت لیں۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ لوک سبھا کی اسپیکر میرا کماری بہار سے الیکشن ہار گئیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے لوک سبھا کے الیکشن میں اپنی جماعت کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نریندر مودی کی بھی پذیرائی نہیں ہوئی۔ نئی دہلی میں کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما اور ترجمان راجیو شکلا نے پارٹی کے ہیڈکوارٹرز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم شکست تسلیم کرتے ہیں۔ ہم حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے متوقع وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کرکےعام انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں بھارت مزید ترقی کرے گا اور نریندر مودی خطے میں امن و استحکام کیلئے موجودہ حکومت کی پالیسی جاری رکھیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی کی امید نہیں تھی۔ جشن فتح کے دوران کئی مقامات پر مذہبی رسوم اور دعاؤں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ملک بھر میں بی جے پی کے کارکنوں نے سیکڑوں من مٹھائی تقسیم کی ہے۔ اس بار 66.4 فیصد ووٹ کاسٹ کئے گئے۔ نریندر مو دی پارلیمانی انتخابات میں اپنی بھرپور کامیابی کی خبریں آنے کے فوری بعد والدہ کے پاس پہنچ گئےجنہوں نے انہیں مبارک باد اور دعائیں دیں۔ نریندر مودی نے اس حوالے سے والدہ کے ساتھ لی گئی تصویر بھی ٹوئیٹ کی ہے جس میں والدہ ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیتی نظر آ رہی ہیں۔ نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ انہوں نے بھرپور کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ لوک سبھا کے الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی تبدیلی کیلئے مینڈیٹ ہے۔ لوگ تبدیلی اور ترقی چاہتے ہیں۔ لوگوں نے مذہب اور قومیت سے بالا تر ہوکر بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top