ایل پی جی کی پیداوارمیں یومیہ 800ٹن اضافے کا امکان

ملک میں ایل پی جی کی ماہانہ پیداوار47ہزار ٹن اور یومیہ 1500ٹن سے زائد ہے ،پارکوسے ماہانہ12ہزار ٹن،مکوڑی فیلڈ 8100،جے جے وی ایل 7000،پی پی ایل سے 5000ٹن ایل پی جی حاصل کی جاتی ہے کنر پشاکی ٹو سے125ٹن،بائیکو200،میرپور خاص کھپرو150،نشپا100،گمبٹ100،آدھی فیلڈ تھری سے75 اور سنجھورو سے50ٹن ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کے امکانات ہیں،ذرائع کراچی(رپورٹ:مظہر علی رضا)لکو یفا ئیڈ پٹرولیم گیس(ایل پی جی)کی مقامی پیداوار میں جلد ہی800ٹن یومیہ اضافے کا امکان ہے جس کے بعد موسم سرما میں نہ صرف مقامی طلب پوری کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ ایل پی جی کی درآمد میں بھی کمی آئے گی۔وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق ملک میں اس وقت ایل پی جی کی ماہانہ پیداوار 47ہزار ٹن اور یومیہ 1500ٹن سے زائد ہے۔ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں پارکوسے ماہانہ12ہزار ٹن،مکوڑی فیلڈ سے 8100 ٹن،جے جے وی ایل سے7000ٹن،پی پی ایل سے 5000ٹن،ایس ایس جی سی سے4500ٹن،او جی ڈی سی ایل سے2600ٹن،یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ سے 2200 ٹن اور پاکستان آئل فیلڈ سے2250ٹن ایل پی جی حاصل کی جاتی ہے۔وزارت پٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایل پی جی کی مقامی پیداوار800ٹن یومیہ بڑھ جائے گی جس میں سے کنر پشاکی ٹو سے 125 ٹن، بائیکو 200 ٹن،میرپور خاص کھپرو 150 ٹن، نشپا 100 ٹن، گمبٹ 100 ٹن،آدھی فیلڈ تھری سے75ٹن اور سنجھورو سے50ٹن ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کے امکانات ہیں۔ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں800ٹن اضافے کے بعد مجموعی طور پر مقامی پیداوار2300ٹن سے بڑھ جائے گی۔ملک بھر میں ایل پی جی طلب موسم گرما کے دوران1500تا1800ٹن اور موسم سرما کے دوران2400تا2600ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ایل پی جی کیپیداوار میں اضافے کے باعث موسم سرما میں مقامی طلب پوری کرنے میں آسانی کے ساتھ درآمد پر دباؤ بھی کم رہے گا جس کے نتیجے میں قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی، ایل پی جی انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں آٹو سیکٹر اور کھانے پکانے کیلئے ایل پی جی سب سے بہتر ایندھن ثابت ہوسکتا ہے،تاہم اس کی قیمتوں کیلئے کوئی باقاعدہ میکانزم نہ ہونے کے باعث ایل پی جی بطور ایندھن اب تک ملک بھر میں مقبول نہیں ہوسکا ہے،حالانکہ دنیا بھر میں آٹو سیکٹر اور کھانے پکانے کیلئے ایل پی جی کو ہی سب سے بہتر ایندھن قرار دیا جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top