دہلی گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ سردارمنجیت سنگھ کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہپاکستان کے شہرپشاورمیں سکھوں کے لئے کوئی شمشان گھات نہیں ہے اور وہاں سکھ وفات پانے والے اپنے عزیزوں کا انتم سنسکارکرنے کے لئے ان کی میتیں قبرستانوں میں دفناتے ہیں جوسکھ مذہبی روایات کے منافی ہے۔

پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور پاکستان میں بسنے والے ہزاروں سکھوں نے ان الزامات کو بے بنیاد اور پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی سازش قراردیا، سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق پردھان سرداربشن سنگھ نے بتایا کہ پشاورمیں سکھوں کے 400 کے قریب خاندان آباد ہیں اوران کے لئے دریائے اٹک کے کنارے دو شمشان گھاٹ موجود ہیں ،اسی طرح بونیر، مردان، سوات، باڑہ، اورکزئی ایجنسی ،کرم ایجنسی سمیت قبائلی علاقہ جات میں شمشان گھاٹ موجود ہیں حالانکہ ان میں سے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سے سکھ نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں آباد ہوچکے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top