حلقہ PK57سے سابق امیدوارصوبائی اسمبلی اورممتازسیاسی وسماجی شخصیت خان محمدتنولی نے کہاہے کہ
مقتول شفیق تنولی میراسگابھیتجااورمجھے اپنے بچوں کی طرح عزیزتھا،جن لوگوں نیبھی اسے قتل کرکے الٹاہمیں 109میں پھنسانے کی گھناونی سازش کرکے ہمیں گھرکے اندرآپس میں لڑانے اورسیاست سے آوٹ کرنے کی کوشش کی ہے،وہ سن لیں کہ خان محمدتنولی اپنے بھتیجے کاخون رائیگاں نہیں جانے دے گا،قاتل جوبھی ہوااس کوضرورسامنے لائیں گے،ہمیں سیاست سے آوٹ کرنے کے خواب دیکھنے والے انشاء اللہ خودسیاست سے آوٹ ہونگے،جن عناصرنے اپنی سیاست کیلئے میرے گھرکوآگ لگائی ہے،اللہ تعالی بے نیازبادشاہ ہے،دوسروں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اللہ تعالی کے عذاب سے ہرگزنہیں بچ سکیں گے،ان خیالات کااظہارانہوں نے شفیق قتل کیس واقعہ کے بعدپہلی بار بحرین سے وآپسی پراپنے آبائی گاؤں بانڈی یوسی کروڑی میں مشران اورنوجوانان علاقہ کے اجتماع سے خطاب میں کیا،خان محمدتنولی نے کہاکہ ہمارے پاس اللہ تعالی کادیاہوابہت کچھ ہے،بحرین اوریہاں پاکستان میں نام بھی ہے،شہرت ،عزت بھی ہے،اپنے ذاتی جیب سے اپنے لوگوں کی خدمت بھی کرتارہاہوں،کئی سڑکیں ،کنویں دیگرترقیاتی کام ذاتی خرچ سے مکمل کئے،اپنے علاقہ تناول کی پسماندگی محرومیاں دیکھ کر سیاست میں آیا،گزشتہ الیکشن جیت تونہیں سکامگرآپ لوگوں نے ہزاروں ووٹ دئیے ،بعدمیں اپنے چھوٹے بھائی رفیق تنولی کومستقل طورپرآپ لوگوں کی خدمت کیلئے یہاں چھوڑا،یوسی کروڑی سے آپ عوام نے ضلع کونسل ممبربھی بنایا،کچھ لوگ ہمارے سیاست میں قدم رکھنے سے خائف تھے،ہمارے خلاف طرح طرح سازشیں کی گئیں،میرے بھتیجے شفیق تنولی کاقتل بھی ہمارے خاندان کے خلاف گھناونی سازش ہے،میں بحرین میں تھا،رفیق تنولی مانسہرہ میں تھا،مگرمیرے چھوٹے بھائی جہانزیب پربراہ راست 302کامقدمہ درج کرکے مجھے اوررفیق تنولی کوبھی 109میں الجھایاگیا،بعدمیں جن لوگوں نے اس کاجشن منایا،اس کابھی ہمیں پتہ ہے،ہم تفتیش میں سرخروہوگئے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook