وفاق پنجاب سے تعلقات ٹھیک ہیں:جمہوریت کو خطرہ ہے نہ مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کرینگے:پرویز خٹک

فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،عمران خان کسی ایجنسی کے کہنے پر کوئی کام نہیں کرتے :دنیا نیوز کے دورہ کے موقع پر اظہار خیال
کالا باغ ڈیم پر اگر مجھے قائل کرلیا جائے تو پورے نوشہرہ کو قائل کرنے کی یقین دہانی کرواتا ہوں:خطاب اور صحافیوں سے گفتگو
لاہور (سپیشل رپورٹر/دنیا نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر
اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ فوج مقدم ادارہ ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی
بات نہیں ہو سکتی۔تحریک انصاف فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے
،قومی اداروں کیخلاف کام نہیں کرنا چاہئے ۔ وفاقی اور پنجاب حکومت کے ساتھ
ہمارے تعلقات ٹھیک ہیں جبکہ اس وقت ملک اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
تحریک انصاف ملک میں مڈٹرم الیکشن کروانے کا مطالبہ کرنے کا ارادہ نہیں
رکھتی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے ۔ چیئر مین پی ٹی آئی
عمران خان کسی ایجنسی کے کہنے پر کوئی کام نہیں کرتے ، تحریک انصاف نے عام
انتخابات میں ہونیوالی دھاندلی کیخلاف احتجاج کرنیکا فیصلہ 25 اپریل کو کر
لیا تھا، اس لئے اس احتجاج کو کسی اور ایشو کیساتھ جوڑنا درست نہیں ہے ۔ان
خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں دنیا نیوز کے ہیڈ آفس کا
دورہ کر تے ہوئے کیا، ان کے ہمراہ ان کے میڈیا ایڈوائزر جاوید بدر اور
تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان بھی تھے جبکہ ایم ڈی دنیا گروپ
نوید کاشف ،بیورو چیف سلمان غنی ، سمیع ابراہیم ،حبیب اکرم،امجد نیاز،نسیم
خان اور دیگر نے ان کا استقبال کیا ۔پرویز خٹک نے مزید کہا کہ تحریک انصاف
سڑکوں پر الیکشن کمیشن کیخلاف اس لئے آئی تاکہ آئندہ الیکشن صاف شفاف ہوں
ورنہ ملک میں دھاندلی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ
الیکشن بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہوں اور اس کیلئے ہر حد تک جائیں گے ۔
دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے طالبان سے مذاکرات ہی واحد حل ہے ۔ کے پی کے ایک
چھوٹا صوبہ ہے جس میں نئے صوبے بنانے کا کوئی ایشو نہیں ہے ، البتہ یہ ایشو
پنجاب کا ہو سکتا ہے ۔ ہم کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن کروانے کیلئے تیار
تھے مگر پنجاب سے کچھ لوگ سپریم کورٹ میں چلے گئے تھے ، تاہم کے پی کے میں
نومبر تک بلدیاتی الیکشن ہو جائیں گے ۔ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد اب
ہارس ٹریڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں رہا ورنہ اب تک کئی بار ہارس ٹریڈنگ ہو چکی
ہوتی مگر اب ایسے لوگوں کی دکانداری بند ہو چکی ہے بلکہ دکان سیل ہو گئی ہے
۔ ہم نے سب سے پہلے آفتاب شیر پاؤ کو حکومت سے علیحدہ کیا تاہم جماعت
اسلامی کرپٹ نہیں اس لئے وہ ہمارے ساتھ ہے ۔ تحریک انصاف اپنے منشور پر عمل
اور امیروں کیلئے نہیں بلکہ غریبوں کیلئے کام کر رہی ہے ۔ میں با اختیار
وزیراعلیٰ ہوں عمران خان صوبہ کے معاملات میں بالکل مداخلت نہیں کرتے ،
تاہم انہیں کوئی شکایت ملے تو وہ مجھے پیغام دیتے ہیں ۔ ہم نے صوبہ میں
تعلیم ، صحت اور کرپشن ختم کرنے کیلئے بہت کام کیا ہے ۔ غریبوں اور امیروں
کیلئے یکساں نظام تعلیم رائج کیا ہے ۔سکولز کو پرائمری سے انگلش میڈیم کر
کے سارا نصاب ایک کر دیا ہے ، کوئی استاد غیر حاضر نہیں رہ سکتا۔ ایک ماہ
تک باقی سرکاری ملازم بھی بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے حاضری لگائیں گے ۔
پنجاب میں 2 کمروں والے سکول بھی ہیں مگر ہم کم از کم 6 کمروں پر مشتمل
سکول بنا رہے ہیں ۔ لاہور شہر خوبصورت نظر آرہا ہے ،نواز شریف اور شہباز
شریف کو اقتدار میں رہنے کے کئی مواقع مل چکے ہیں ،تاہم دو تین ماہ میں
پشاور کی شکل بھی بہت بہتر نظر آئے گی ۔ عابد شیر علی بلوچستان ،سندھ اور
کے پی کے کو بجلی چور کہہ رہے ہیں جبکہ یہ درست نہیں ہے ۔ کے پی کے میں کچھ
علاقے جو قبائلی علاقوں کیساتھ ہیں وہاں لوگ بجلی کا بل نہیں دے رہے ،
وفاقی حکومت ان سے نمٹے ، انہیں سزا دے ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کبھی کسی
ڈیم کی مخالفت نہیں کی۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب نے بلدیاتی نظام کے نام
پر ڈرامہ کیا ہے لیکن خیبر پختونخوا نے بالکل نیا نظام متعارف کرایا ہے ۔
علاوہ ازیں مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف پنجاب کی طرف سے دئیے گئے استقبالیہ
سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ کالا باغ ڈیم
کے بننے سے نوشہرہ کو بہت خطر ہ لاحق ہوگا۔ آبی ماہر اگر مجھے کالا باغ
ڈیم بنانے کے حوالے سے قائل کر لیں تو میں پورے نوشہرہ کو قائل کرنے کی
یقین دہانی کرواتا ہوں۔کے پی کے میں ایسا نظام لارہے ہیں کہ اگر کوئی
حکمران بھی غلطی کریگا تو وہ بھی پکڑ میں آئیگا۔ اگر وزیر اعظم یا وزیر
اعلیٰ کرپٹ ہونگے تو کرپشن کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ جب تک لیڈر اپنے آپ میں
تبدیلی نہیں لائیں گے ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی۔میں کے پی کے سمیت ملک کے
کسی بھی علاقہ میں جاؤں تو میرے ساتھ کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا اور نہ ہی
سائرن بجتے ہیں اور نہ ہی ٹریفک سگنلز بند ہوتے ہیں بلکہ میں عام آدمی کی
طرح ٹریفک اشاروں پر رک جاتا ہوں۔ وی آئی پی کلچر ختم ہونا ضروری ہے تاکہ
تبدیلی آسانی سے آئے اور ہر لیڈر کو تبدیلی کا آغاز گھر سے کرنا ہوگا ۔
صوبہ میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے غیر
معمولی اقدامات کررہے ہیں ۔ ہم صوبہ میں رائٹ ٹو سروسز کا بل لارہے ہیں جس
کے تحت تمام سروسز کیلئے ایک وقت مقرر کیا جائیگا،اگر اس سے زیادہ وقت لگا
تو ذمہ دار شخص کو اپنی جیب سے جرمانہ دیناہو گا ۔ ایک سروے کے مطابق
پاکستان میں اگر پرائمری سکول میں سو بچے جاتے ہیں تو میٹرک میں جا کر صرف
13بچے رہ جاتے ہیں ،اس سے تبدیلی کیا آئے گی؟ ۔ ہمارے پاس بجلی، گیس اور
پٹرول ضرورت سے زیادہ ہے ، وفاقی حکومت ہم سے 2روپے فی یونٹ بجلی لے رہی ہے
اور اس کے بھی پیسے نہیں دے رہی۔ ہم فالتو گیس سے بجلی بنا کر صنعتی شعبہ
کو دے کر روزگار میں اضافہ کر سکتے ہیں مگر اس میں بھی وفاقی حکومت رکاوٹ
ہے ، ہمارا حق ہمیں ملنا چاہئے ورنہ ہم مناسب راستہ لیں گے ۔ تقریب سے خیبر
پختونخوا کے وزیرصحت شہرام ترکئی ،وزیر تعلیم عاطف خان اور اعجاز چودھری
نے بھی خطاب کیا
ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook