اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے
حافظ کریم اللہ چشتی
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جواپنے اونٹ کوپالے جبکہ وہ اسے ایک جنگل میں گم کرچکاہو‘‘۔ حدیث نبوی ؐ ****** ’’بے شک ہربیماری کاعلاج ہے اورگناہوں کاعلاج بخشش طلب کرناہے، جوشخص دن میں دومرتبہ بخشش طلب نہیں کرتا درحقیقت اُس نے اپنی جان پرظلم کیا‘‘۔ فرمان رسول ؐ ****** ارشادباری تعالیٰ ہے ترجمہ’’(اے محبوبؐ) فرما دیجیے اے میرے وہ بندوجنہوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامیدنہ ہوجانابیشک اللہ تمام گناہوں کومعاف فرمادے گابیشک وہ بخشنے والانہایت مہربان ہے ۔‘‘ (پارہ 24رکوع3)اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے توبہ کرنے کی فضیلت کوبیان فرمایا اور یہ فرمایاجومجھ سے معافی مانگے میں اسکے گناہ معاف فرما دیتا ہوں اورتم جوکچھ کرتے ہومیں دیکھ رہاہوں ۔ ہمارے آقاؐ کی اس دنیاپرتشریف آوری سے پہلے بنی اسرائیل کے لوگوں کیلئے بڑے سخت احکامات ہوتے تھے ان کااگر کپڑاپلیدہوجاتاتواس پلیدجگہ کوکاٹناپڑتاتھا۔اگرجسم کاکوئی عضو پلید ہو جاتاتواس عضوکوآگ سے داغاجاتامال کاچوتھائی حصہ زکوٰۃ اداکی جاتی۔کوئی آدمی گناہ کرتاتوانکے ماتھے پرلکھ دیاجاتااوراس کے گھرکی چوکھٹ پرلکھ دیاجاتاکہ اس شخص نے فلاں گناہ کیاہے جس سے اس گناہ گارکی ذلت ورسوائی ہوتی تھی اورگناہ کی پاداش میں بطور سزا حلال اشیاء ان پرحرام کردی جاتی تھیں ۔ قرآن پاک گواہ ہے کہ جب انہوں نے گائے کے بچھڑے کی پرستش کی توانکی توبہ کیلئے حکم ہوا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت ہم گناہگاروں پراللہ تعالیٰ نے آسانیاں پیدا فرما دیں پانی کوہمارے لئے پاک کرنیوالا بنا دیاہمیں کپڑا یا جسم پاک کرنے کیلئے اس کو کاٹنا نہیں پڑتابلکہ اس پرپانی بہالیں تووہ پاک ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل صرف اپنی عبادت گاہوں میں ہی عبادت کرسکتے تھے ہماری لئے پوری زمیں کومسجدبنادیاگیا۔تاکہ نبی آخرالزماںؐ کاامتی جہاں چاہے اپنافریضہ نماز ادا کرلے ،مال دارپرچوتھائی حصہ نہیں بلکہ چالیسواں حصہ زکوٰۃ واجب قرار پائی۔پہلی امتیں توایک گناہ کی وجہ سے ذلیل ورسواکردی جاتیں لیکن ہمارے ماتھے پر کچھ لکھاجاتاہے نہ ہی ہمارے گھرکی چوکھٹ پرنہ ہی ہماری شکلیں بدلی جاتی ہیں۔ گناہ کے سبب حلال چیزیںحرام نہیں کی جاتیں۔یہ جتنابھی کرم ہم پرہوانبی کریم ؐکے وسیلہ سے ہواہے ۔کسی قوم پربجلیاں گریں، کسی قوم پرپتھروں کی بارشیں ہوئیں، تیزآندھیاں چلیں جنکی وجہ سے وہ اجڑے ہوئے کھیتوں کی طرح نیست ونابود ہوگئے۔ کسی قوم کوپانی کے عذاب نے آگھیراجس سے وہ غرق ہوئے۔مگر نبی کریمؐ سے لیکرقیامت تک کوئی ایساعذاب نہیں آئے گا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔ترجمہ ’’اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور گناہوں سے درگزر فرماتاہے اورجانتاہے جوکچھ تم کرتے ہو‘‘۔ (پارہ 25رکوع4) حضورؐکے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہم گناہگاروں کیلئے باب کرم کھول دیاہے ہمیں پہلی قوموں کی طرح ذلیل و رسوا نہیں کیا گیا ہماری بخشش کو آسان بنادیا۔ہم اللہ کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کرلیں تووہ ہمارے گناہوں کومعاف فرمادیتاہے ۔ علماء کرام فرماتے ہیں ہرگناہ سے توبہ کرنا واجب ہے اگرگناہ کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہواورکسی انسان کاحق اس سے متعلق نہ ہوتو اسکے لئے تین شرائط ہیں ۔پہلی شرط یہ ہے وہ اس گناہ سے لاتعلق ہوجائے،دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اسکے ارتکاب پرنادم ہو،تیسری شرط یہ ہے وہ اس بات کاپختہ ارادہ کرے کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کاارتکاب نہیں کرے گااگران تین میںسے کوئی ایک بھی شرط موجودنہ ہوئی توتوبہ درست نہیں ہوگی اگرگناہ کاتعلق کسی آدمی کے ساتھ ہوتواسکی شرائط چارہوںگی ان (مذکورہ بالا)تین شرائط (کے ہمراہ چوتھی شرط یہ ہے )کہ آدمی اس حقدارکے حق سے بری الذمہ ہویعنی اگرمال وغیرہ تھاتواسے وہ واپس کردے اور اگر حدقذف وغیرہ کامعاملہ ہوتواپنے آپکواسکے حوالے کرے یااس سے معافی مانگے اوراگرغیبت ہوتواسے بھی معاف کرائے ۔تمام گناہوں سے توبہ کرناواجب ہے اگرکوئی شخص بعض گناہوں سے توبہ کرلیتاہے تواہل حق کے نزدیک ان مخصوص گناہوں سے اسکی توبہ درست ہوگی اورباقی (گناہوںسے توبہ کرنا)اسکے ذمے باقی رہ جائے گا ۔ حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ سے منقول ہے کہ توبہ کیلئے چھ شرائط ہیں۔ گزرے ہوئے زمانے میں جتنے گناہ ہوچکے ہیں ان پرنادم ہونا،اورلوٹانے کیساتھ ساتھ فرائض کے نقصان کوپوراکرنا،مظلوموںسے معافی مانگنا اورنفس کواطاعت میں اسطرح پگھلاناکہ جس طرح کہ اس نے گناہوں میں اپنے آپکوپروان چڑھایا اور نفس کواطاعت کاکڑوامزہ چکھانا جس طرح کہ اس نے بے گناہوںکی حلاوت کوچکھااورجہاں جہاں نفس نے ہنسی کی اسکے بدلے ہرجگہ پر رونا اور آہ وزاری کرنایہ توبہ کی چھ شرائط ہیں۔ حضرت ابوالعباس عبداللہ ابن عباس بن عبدالمطلب ؓفرماتے ہیں کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اورگناہ تحریر فرما دئیے ہیںاورپھرانکوواضح کردیاہے ۔جوشخص نیکی کاارادہ کرے اوراس پرعمل نہ کرے تواللہ اُسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتاہے۔پھرارادہ کے ساتھ اگرعمل کرے تواسے اپنے پاس سے دس گناسے لیکر سات سوگناتک بلکہ اس سے بھی نیکیاں زیادہ لکھ لیتاہے اورجوگناہ کاارادہ کرے پھر گناہ نہ کرے تواس کیلئے بھی اللہ ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے پھراگرگناہ کاارادہ کرے اورگناہ کربھی لے تواسے اللہ ایک گناہ لکھ لیتا ہے۔ (بخاری، مشکوٰۃ 207) حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی اکرمؐ کافرمان سناکہ ’’ بے شک ہربیماری کاعلاج ہے اورگناہوں کاعلاج بخشش طلب کرناہے۔ جوشخص دن میں دومرتبہ بخشش طلب نہیں کرتا درحقیقت اُس نے اپنی جان پرظلم کیا‘‘۔ حضرت ابوحمزہ انس بن مالک انصاری ؓ جونبی کریم ؐ کے خادم ہیں بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم ؐنے ارشادفرمایاہے ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جواپنے اونٹ کوپالے جبکہ وہ اسے ایک جنگل میں گم کرچکاہو‘‘۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایاکہ ’’ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ، اے ابن آدم !جب تک تومجھ سے مانگتارہے گا اورمجھ سے امیدرکھے گامیں تیری بخشش کرتارہوں گاخواہ تیرے اعمال کیسے ہوں میں پرواہ نہیں کرتا۔اے ابن آدم اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھربھی تومجھ سے بخشش مانگے تو میں بخش دونگا مجھے پرواہ نہیں اے ابن آدم!اگرتومجھ سے اس حال میں ملے کہ تیرے گناہوں سے ساری زمین بھری پڑی ہو اور تونے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایا ہو تومیں تیرے تمام کے تمام گناہ معاف کرکے تیری بخشش کردونگا‘‘۔ایک روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نیاپنے آخری نبی حضرت محمدمصطفی ؐ کی امت کوچار کرامتوں سے سرفراز فرمایاہے ۔جوکہ صرف اسی امت کو عطا ہوئیںفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری توبہ مکہ شریف میں قبول فرمائی جبکہ حضورنبی کریم ؐکی امت کے لوگ ہرجگہ توبہ کرسکتے ہیں اوراللہ پاک انکی توبہ قبول فرماتاہے، جب مجھ سے غلطی سرزدہوئی تومیرے اورمیری بیوی کے درمیان جدائی کردی گئی لیکن امت محمدیہ ؐ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہے مگرانکے اورانکے اہل کے درمیان جدائی نہیں کی جاتی ، میںنے جنت میں غلطی کی تومجھے وہاں سے نکال دیاگیا جبکہ امت محمدیہ ؐکے لوگ جنت سے باہرگناہ کرتے ہیں لیکن جب وہ توبہ کرلیں گے تواللہ انکوجنت میں داخل فرمادیگا۔ امام زندوستی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام ابومحمدعبداللہ بن فضل ؒکویہ فرماتے ہوئے سناوہ فرماتے تھے کہ حکماء نے فرمایاکہ جس کوچارچیزیں مل جائیں وہ دوسری چارچیزوں کامستحق بن جاتاہے پہلی یہ کہ جس آدمی کودعاکرنے کی توفیق مل جائے وہ دعاکے قبول ہونے سے محروم نہیں ہوتااوردوسری یہ کہ جسکوبخشش طلب کرنے کی توفیق مل جائے وہ مغفرت سے محروم نہیں رہتاجیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے ’’وہ بڑا معاف فرمانے والاہے‘‘ اورتیسری یہ کہ جس کوشکرکرنے کی توفیق مل جائے وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہیں رہتاجیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اگر احسان مانوگے تومیں تمہیں اور دونگا‘‘ اورچوتھی یہ کہ جس کوتوبہ کرنے کی توفیق مل جائے وہ اس لئے توبہ کے قبول ہونے سے محروم نہیں رہتاجیسا کہ رب ذالجلال نے فرمایا’’اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اورگناہوں سے درگزرفرماتاہے‘‘۔ حضرت عامرالروحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضورنبی کریم ؐ کی بارگاہ اقدس میں حاضرتھے اچانک ایک شخص آیاجس پر ایک کمبل تھا اور اسکے ہاتھ میں کوئی چیزتھی جس پرکمبل لپیٹا ہوا تھا اس نے آکر عرض کی یارسول ؐاللہ میں ایک جھاڑی کے پاس سے گزراتومیں نے اس جھاڑی میں چڑیاکے بچوں کے رونے کی آواز سنی میں نے ان بچوں کوپکڑلیااوراپنے کمبل میں چھپالیااتنے میں ان بچوں کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر کاٹنے لگی میں نے اسکے سامنے وہ بچے کھول دیے۔انکی والدہ ان بچوں پرگرپڑی تومیں نے ان سب کواپنے کمبل میں لپیٹ لیاوہ سب میرے پاس ہیں۔ آپ ؐنے فرمایا ’’تم انہیں زمین پررکھ دو‘‘میں نے انہیں رکھ دیا تو انکی ماں ان بچوں سے چمٹی رہی ۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اس قدرمحبت پرتعجب کرتے ہو؟ ــقسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ (محمدؐکو) مبعوث فرمایااللہ اپنے بندوں پراس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں پرمہربان ہے‘‘۔اسکے بعد آقاؐ نے اس صحابی ؓسے فرمایاکہ جائو جس مقام سے لائو ہوو ہیں پر انکو چھوڑ کرآئو۔(ابودائود،مشکوٰۃ) حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آقا ؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے گناہ کیاہی نہ تھا۔‘‘(ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کویہ فرماتے ہوئے سنا’’میں دن بھرمیں 70مرتبہ سے زیادہ اللہ کے حضور استغفار کرتا ہوں‘‘ ۔ (بخاری شریف) اللہ رب العزت ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری توبہ کو قبول کرے ۔ آمین ٭…٭…٭
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جواپنے اونٹ کوپالے جبکہ وہ اسے ایک جنگل میں گم کرچکاہو‘‘۔ حدیث نبوی ؐ ****** ’’بے شک ہربیماری کاعلاج ہے اورگناہوں کاعلاج بخشش طلب کرناہے، جوشخص دن میں دومرتبہ بخشش طلب نہیں کرتا درحقیقت اُس نے اپنی جان پرظلم کیا‘‘۔ فرمان رسول ؐ ****** ارشادباری تعالیٰ ہے ترجمہ’’(اے محبوبؐ) فرما دیجیے اے میرے وہ بندوجنہوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامیدنہ ہوجانابیشک اللہ تمام گناہوں کومعاف فرمادے گابیشک وہ بخشنے والانہایت مہربان ہے ۔‘‘ (پارہ 24رکوع3)اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے توبہ کرنے کی فضیلت کوبیان فرمایا اور یہ فرمایاجومجھ سے معافی مانگے میں اسکے گناہ معاف فرما دیتا ہوں اورتم جوکچھ کرتے ہومیں دیکھ رہاہوں ۔ ہمارے آقاؐ کی اس دنیاپرتشریف آوری سے پہلے بنی اسرائیل کے لوگوں کیلئے بڑے سخت احکامات ہوتے تھے ان کااگر کپڑاپلیدہوجاتاتواس پلیدجگہ کوکاٹناپڑتاتھا۔اگرجسم کاکوئی عضو پلید ہو جاتاتواس عضوکوآگ سے داغاجاتامال کاچوتھائی حصہ زکوٰۃ اداکی جاتی۔کوئی آدمی گناہ کرتاتوانکے ماتھے پرلکھ دیاجاتااوراس کے گھرکی چوکھٹ پرلکھ دیاجاتاکہ اس شخص نے فلاں گناہ کیاہے جس سے اس گناہ گارکی ذلت ورسوائی ہوتی تھی اورگناہ کی پاداش میں بطور سزا حلال اشیاء ان پرحرام کردی جاتی تھیں ۔ قرآن پاک گواہ ہے کہ جب انہوں نے گائے کے بچھڑے کی پرستش کی توانکی توبہ کیلئے حکم ہوا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت ہم گناہگاروں پراللہ تعالیٰ نے آسانیاں پیدا فرما دیں پانی کوہمارے لئے پاک کرنیوالا بنا دیاہمیں کپڑا یا جسم پاک کرنے کیلئے اس کو کاٹنا نہیں پڑتابلکہ اس پرپانی بہالیں تووہ پاک ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل صرف اپنی عبادت گاہوں میں ہی عبادت کرسکتے تھے ہماری لئے پوری زمیں کومسجدبنادیاگیا۔تاکہ نبی آخرالزماںؐ کاامتی جہاں چاہے اپنافریضہ نماز ادا کرلے ،مال دارپرچوتھائی حصہ نہیں بلکہ چالیسواں حصہ زکوٰۃ واجب قرار پائی۔پہلی امتیں توایک گناہ کی وجہ سے ذلیل ورسواکردی جاتیں لیکن ہمارے ماتھے پر کچھ لکھاجاتاہے نہ ہی ہمارے گھرکی چوکھٹ پرنہ ہی ہماری شکلیں بدلی جاتی ہیں۔ گناہ کے سبب حلال چیزیںحرام نہیں کی جاتیں۔یہ جتنابھی کرم ہم پرہوانبی کریم ؐکے وسیلہ سے ہواہے ۔کسی قوم پربجلیاں گریں، کسی قوم پرپتھروں کی بارشیں ہوئیں، تیزآندھیاں چلیں جنکی وجہ سے وہ اجڑے ہوئے کھیتوں کی طرح نیست ونابود ہوگئے۔ کسی قوم کوپانی کے عذاب نے آگھیراجس سے وہ غرق ہوئے۔مگر نبی کریمؐ سے لیکرقیامت تک کوئی ایساعذاب نہیں آئے گا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔ترجمہ ’’اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور گناہوں سے درگزر فرماتاہے اورجانتاہے جوکچھ تم کرتے ہو‘‘۔ (پارہ 25رکوع4) حضورؐکے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہم گناہگاروں کیلئے باب کرم کھول دیاہے ہمیں پہلی قوموں کی طرح ذلیل و رسوا نہیں کیا گیا ہماری بخشش کو آسان بنادیا۔ہم اللہ کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کرلیں تووہ ہمارے گناہوں کومعاف فرمادیتاہے ۔ علماء کرام فرماتے ہیں ہرگناہ سے توبہ کرنا واجب ہے اگرگناہ کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہواورکسی انسان کاحق اس سے متعلق نہ ہوتو اسکے لئے تین شرائط ہیں ۔پہلی شرط یہ ہے وہ اس گناہ سے لاتعلق ہوجائے،دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اسکے ارتکاب پرنادم ہو،تیسری شرط یہ ہے وہ اس بات کاپختہ ارادہ کرے کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کاارتکاب نہیں کرے گااگران تین میںسے کوئی ایک بھی شرط موجودنہ ہوئی توتوبہ درست نہیں ہوگی اگرگناہ کاتعلق کسی آدمی کے ساتھ ہوتواسکی شرائط چارہوںگی ان (مذکورہ بالا)تین شرائط (کے ہمراہ چوتھی شرط یہ ہے )کہ آدمی اس حقدارکے حق سے بری الذمہ ہویعنی اگرمال وغیرہ تھاتواسے وہ واپس کردے اور اگر حدقذف وغیرہ کامعاملہ ہوتواپنے آپکواسکے حوالے کرے یااس سے معافی مانگے اوراگرغیبت ہوتواسے بھی معاف کرائے ۔تمام گناہوں سے توبہ کرناواجب ہے اگرکوئی شخص بعض گناہوں سے توبہ کرلیتاہے تواہل حق کے نزدیک ان مخصوص گناہوں سے اسکی توبہ درست ہوگی اورباقی (گناہوںسے توبہ کرنا)اسکے ذمے باقی رہ جائے گا ۔ حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ سے منقول ہے کہ توبہ کیلئے چھ شرائط ہیں۔ گزرے ہوئے زمانے میں جتنے گناہ ہوچکے ہیں ان پرنادم ہونا،اورلوٹانے کیساتھ ساتھ فرائض کے نقصان کوپوراکرنا،مظلوموںسے معافی مانگنا اورنفس کواطاعت میں اسطرح پگھلاناکہ جس طرح کہ اس نے گناہوں میں اپنے آپکوپروان چڑھایا اور نفس کواطاعت کاکڑوامزہ چکھانا جس طرح کہ اس نے بے گناہوںکی حلاوت کوچکھااورجہاں جہاں نفس نے ہنسی کی اسکے بدلے ہرجگہ پر رونا اور آہ وزاری کرنایہ توبہ کی چھ شرائط ہیں۔ حضرت ابوالعباس عبداللہ ابن عباس بن عبدالمطلب ؓفرماتے ہیں کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اورگناہ تحریر فرما دئیے ہیںاورپھرانکوواضح کردیاہے ۔جوشخص نیکی کاارادہ کرے اوراس پرعمل نہ کرے تواللہ اُسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتاہے۔پھرارادہ کے ساتھ اگرعمل کرے تواسے اپنے پاس سے دس گناسے لیکر سات سوگناتک بلکہ اس سے بھی نیکیاں زیادہ لکھ لیتاہے اورجوگناہ کاارادہ کرے پھر گناہ نہ کرے تواس کیلئے بھی اللہ ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے پھراگرگناہ کاارادہ کرے اورگناہ کربھی لے تواسے اللہ ایک گناہ لکھ لیتا ہے۔ (بخاری، مشکوٰۃ 207) حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی اکرمؐ کافرمان سناکہ ’’ بے شک ہربیماری کاعلاج ہے اورگناہوں کاعلاج بخشش طلب کرناہے۔ جوشخص دن میں دومرتبہ بخشش طلب نہیں کرتا درحقیقت اُس نے اپنی جان پرظلم کیا‘‘۔ حضرت ابوحمزہ انس بن مالک انصاری ؓ جونبی کریم ؐ کے خادم ہیں بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم ؐنے ارشادفرمایاہے ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتاہے جواپنے اونٹ کوپالے جبکہ وہ اسے ایک جنگل میں گم کرچکاہو‘‘۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایاکہ ’’ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ، اے ابن آدم !جب تک تومجھ سے مانگتارہے گا اورمجھ سے امیدرکھے گامیں تیری بخشش کرتارہوں گاخواہ تیرے اعمال کیسے ہوں میں پرواہ نہیں کرتا۔اے ابن آدم اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھربھی تومجھ سے بخشش مانگے تو میں بخش دونگا مجھے پرواہ نہیں اے ابن آدم!اگرتومجھ سے اس حال میں ملے کہ تیرے گناہوں سے ساری زمین بھری پڑی ہو اور تونے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرایا ہو تومیں تیرے تمام کے تمام گناہ معاف کرکے تیری بخشش کردونگا‘‘۔ایک روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نیاپنے آخری نبی حضرت محمدمصطفی ؐ کی امت کوچار کرامتوں سے سرفراز فرمایاہے ۔جوکہ صرف اسی امت کو عطا ہوئیںفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری توبہ مکہ شریف میں قبول فرمائی جبکہ حضورنبی کریم ؐکی امت کے لوگ ہرجگہ توبہ کرسکتے ہیں اوراللہ پاک انکی توبہ قبول فرماتاہے، جب مجھ سے غلطی سرزدہوئی تومیرے اورمیری بیوی کے درمیان جدائی کردی گئی لیکن امت محمدیہ ؐ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہے مگرانکے اورانکے اہل کے درمیان جدائی نہیں کی جاتی ، میںنے جنت میں غلطی کی تومجھے وہاں سے نکال دیاگیا جبکہ امت محمدیہ ؐکے لوگ جنت سے باہرگناہ کرتے ہیں لیکن جب وہ توبہ کرلیں گے تواللہ انکوجنت میں داخل فرمادیگا۔ امام زندوستی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام ابومحمدعبداللہ بن فضل ؒکویہ فرماتے ہوئے سناوہ فرماتے تھے کہ حکماء نے فرمایاکہ جس کوچارچیزیں مل جائیں وہ دوسری چارچیزوں کامستحق بن جاتاہے پہلی یہ کہ جس آدمی کودعاکرنے کی توفیق مل جائے وہ دعاکے قبول ہونے سے محروم نہیں ہوتااوردوسری یہ کہ جسکوبخشش طلب کرنے کی توفیق مل جائے وہ مغفرت سے محروم نہیں رہتاجیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے ’’وہ بڑا معاف فرمانے والاہے‘‘ اورتیسری یہ کہ جس کوشکرکرنے کی توفیق مل جائے وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہیں رہتاجیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اگر احسان مانوگے تومیں تمہیں اور دونگا‘‘ اورچوتھی یہ کہ جس کوتوبہ کرنے کی توفیق مل جائے وہ اس لئے توبہ کے قبول ہونے سے محروم نہیں رہتاجیسا کہ رب ذالجلال نے فرمایا’’اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اورگناہوں سے درگزرفرماتاہے‘‘۔ حضرت عامرالروحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضورنبی کریم ؐ کی بارگاہ اقدس میں حاضرتھے اچانک ایک شخص آیاجس پر ایک کمبل تھا اور اسکے ہاتھ میں کوئی چیزتھی جس پرکمبل لپیٹا ہوا تھا اس نے آکر عرض کی یارسول ؐاللہ میں ایک جھاڑی کے پاس سے گزراتومیں نے اس جھاڑی میں چڑیاکے بچوں کے رونے کی آواز سنی میں نے ان بچوں کوپکڑلیااوراپنے کمبل میں چھپالیااتنے میں ان بچوں کی ماں آگئی وہ میرے سر پر چکر کاٹنے لگی میں نے اسکے سامنے وہ بچے کھول دیے۔انکی والدہ ان بچوں پرگرپڑی تومیں نے ان سب کواپنے کمبل میں لپیٹ لیاوہ سب میرے پاس ہیں۔ آپ ؐنے فرمایا ’’تم انہیں زمین پررکھ دو‘‘میں نے انہیں رکھ دیا تو انکی ماں ان بچوں سے چمٹی رہی ۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’کیا تم ان چوزوں کی ماں کی اپنے بچوں سے اس قدرمحبت پرتعجب کرتے ہو؟ ــقسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ (محمدؐکو) مبعوث فرمایااللہ اپنے بندوں پراس سے زیادہ مہربان ہے جتنی بچوں کی ماں چوزوں پرمہربان ہے‘‘۔اسکے بعد آقاؐ نے اس صحابی ؓسے فرمایاکہ جائو جس مقام سے لائو ہوو ہیں پر انکو چھوڑ کرآئو۔(ابودائود،مشکوٰۃ) حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آقا ؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے گناہ کیاہی نہ تھا۔‘‘(ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کویہ فرماتے ہوئے سنا’’میں دن بھرمیں 70مرتبہ سے زیادہ اللہ کے حضور استغفار کرتا ہوں‘‘ ۔ (بخاری شریف) اللہ رب العزت ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری توبہ کو قبول کرے ۔ آمین ٭…٭…٭
ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook