سود اللہ و رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ

صاجزادہ ذیشان کلیم معصومی
اس وقت دنیا میں ایک وباء ایسی عا م ہے جو تمام روئے زمین کو اپنی لپیٹ میںلے چکی ہے یہ ایسی بیماری ہے جس میں تمام انسانیت مبتلا ہے۔ اس بیماری کا نام سود ہے۔ نبی کریم ؐ نے سود کے حوالے سے فرمایا تھا کہ یہ قانون پوری انسانیت کی تعمیر اصلاح اور فلاح کے لئے ہے لہٰذا اس کا اطلاق نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں پر بھی ہوگا اس کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سودی کاروبار ایک جرم بن گیا۔ عرب کے جو قبیلے سود کھاتے تھے ان کو نبی کریم ؐنے اپنے اعمال کے ذریعے آگاہ فرمایا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی نجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکومت کے تحت اندرونی خود مختاری دی گئی تو معاہدے میں تصریح کر دی گئی کہ اگرتم سودی کاروبار کرو گے تو معاہدہ ختم ہو جائے گا اور ہمارے تمہارے درمیان حالت جنگ قائم ہو جائے گی۔ آپؐ نے جب اہل طائف سے امن کا معاہدہ کیا تو اس میں سودی لین دین کے خاتمے کی شرط لگائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اسلامی مملکت میں سود چھوڑنے پر تیار نہ ہوتو خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑادے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا ’’یقینا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی نہ بچے گا لیکن وہ سود کھانے والا ہوگا جو خود سود نہ کھاتا ہوگا تو اس کا غبار ضرور اس کے اندر پہنچے گا ۔‘‘ سود کے خاتمے سے ملک میں انارکی نہیں پھیلے گی بلکہ اللہ کے احکامات کے نفاذ کی وجہ سے زمین اور آسمان سے اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ظاہر ہوں گی۔ ہم میں سے اکثریت کی بے عملی کی وجہ دین کے احکامات سے بغاوت نہیں بلکہ لاعلمی اور غفلت ہے اگر تسلسل کے ساتھ تمام ذرائع ابلاغ سے سود کی حرمت دنیا میں سود کی وجہ سے ظاہر ہونے والی خباثتیں اور آخرت میں اس گناہ کی بری سزا سے آگاہ کیا جاتا رہے تو لازماًلوگوں کی بیداری آئیگی اور وہ اس گناہ سے بچنے کا عزم مصمم کر لیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ احکامات شریعت پر عمل خواہ ان کا تعلق زندگی کے کسی شعبے سے ہو تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے قرآن مجید میں جب بھی احکامات شریعت کابیان آتا ہے تو ساتھ ساتھ ہی تقویٰ کی تلقین کی جاتی ہے البتہ معاشرے کو اسلامی بنانے اور افراد میں تقویٰ پیدا کرنے کی اولین ذمہ داری حکومت کی بھی ہے۔ حکومت ،میڈیا ، وکلاء پروفیسروں،دانشوروں اور سب سے بڑھ کر علمائے ومشائخ کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام الناس تک پیغام حق پہنچائیں کیونکہ اسلام میں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ سود ہے جو ہمارے نظام کا حصہ بنا ہو اہے۔ اللہ ہمیں اپنے محبوب کریمؐ کے صدقے سودجیسی لعنت سے محفوظ فرمائے۔ آمین ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top