لوڈ شیڈنگ 2018تک بھی مکمل ختم نہیں ہو گی کم ضرور ہو جائیگی وزیر بجلی
توا نائی بحران سے سالانہ ایک ہزا رار ب روپےنقصان ہورہاہے،سندھ بجلی چوری روکنےکیلئےتعاون نہیں کررہا، گفتگو
وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ 2018 ءتک بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی لیکن کم ضرور ہوجائیگی
اسلام آباد(دنیانیوز،اے پی پی)۔میڈیا سے گفتگومیں
انکاکہناتھاکہ توا نائی بحران کے باعث سالانہ ایک ہزا رار ب روپے کا نقصان
ہورہاہے،سندھ کے سرکاری اداروں کے ذمہ 53 ارب، بلوچستان 5 ارب، آزاد کشمیر
5 ارب، پنجاب 4 ار ب اور خیبرپختونخوا کے ذمےایک ارب 80 کروڑ روپےواجب
الادا ہیں۔توقع ہے کہ خیبرپختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب جون تک تمام
واجبات ادا کردینگےجبکہ سندھ اور آزاد کشمیر سے وصولیوں کے بارے میں
تحفظات ہیں،سندھ بجلی چوری کی روک تھام کیلئےوفاق سےتعاون نہیں کررہا۔انہوں
نے کہاکہ مارکیٹیں جلد بند کرانے کیلئے صوبوں کو وقت مقررکرنے کی ہدایت
کردی ہے ،جبکہ اس اقدام سے اڑھائی ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکے
گی۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ شدید گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ 6سے7گھنٹے تک
برقرار رکھنے کی کوشش کی جائیگی تاہم مزید کمی کیلئے3سال چاہئیں، رینٹل
پاور کا منصوبہ ختم کر دیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق آئی
ایم ایف کے دعوؤں کو غلط ثابت کرینگے۔
ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook