اوگی کے گاؤں عباس بانڈہ کا نوج
وان عادل بہیمانہ اندازمیں قتل کردیاگیا،لواحقین کوآگاہ کئے بغیرپوسٹ مارٹم اورلواحقین کومبینہ طورپر چھ گھنٹے بعداطلاع پرجمعرات کی صبح عباس بانڈہ ومضافات کے سینکڑوں لوگوں نے مقتول کی نعش کی چارپائی میلادچوک اوگی میں رکھ کرسراپااحتجاج بن گئے اورلواحقین کوعدم اطلاع کوپولیس ملی بھگت قراردیکرایس ایچ اواورپوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرکی معطلی کامطالبہ کیا،احتجاج میں اوگی کی تاجربرداری کی ا کثریت بھی دکانیں بندکرکے شامل ہوگئی،احتجاج سے اوگی مانسہرہ روڈچار گھنٹے تک ٹریفک کیلئے بندسینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،مظاہرین اورپولیس میں تصادم فائرنگ،پتھراؤ،آنسوگیس کے شیل پھینکنے سے پولیس اہلکارسمیت دوافرادزخمی کئی لہولہان بھی ہوگئے، پولیس نے مذاکرات کی کوشش کی مگربات نہیں بن سکی،اس دوران حلقہ PK33سے امیدوارصوبائی اسمبلی شہریارخان نے ڈی ایس پی سے مذاکرات کئے اورمقتول کے لواحقین کے بنیادی مطالبات کاانہوں نے چوک میں آکراعلان کیاکہ وہ تسلیم کرلئے گئے ہیں،آپ احتجاج کوختم کردیں،مگرانکی بات کوسننے کی بجائے احتجاج میں شامل لوگ نعش والی چاربائی کندھوں پراٹھاکرمانسہرہ روڈپرتکیہ چوک لے گئے،جس سے اوگی مانسہرہ مصروف ترین شاہراہ بھی ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بندہوگئی اورشدیدگرمی میں سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں،اے سی اوگی شبیراحمدآکاش،ڈی ایس پی بشیرخان،شہریارخان،صدرایوان تجارت سربلندخان،چیرمین ڈی آرسی حاجی رفیع الدین،مولاناعبیدالرحمن حیدری نے سٹیج پرآکرمظاہرین سے بات کی کوشش کی اورکہاکہ آپ کے مطالبات کوتسلیم کرلیاجائیگاآپ احتجاج ختم کریں،لیکن بعض افرادنے اس موقع پرسٹیج پرکھڑے لوگوں پربھی لعن طعن کی اورکہاکہ جب تک ایس ایچ اواورمتعلقہ ڈاکٹرکویہاں مظاہرین کے سامنے لاکرمعطل اورہتھکڑیاں نہیں لگائی جائیں گی،وہ یہاں سے نہیں جائیں گے،مقتول کے لواحقین بھی بے بسی کی تصویربنے رہے، مظاہرین نے پہلے ٹائرجلاکرمانسہرہ روڈکوآگ لگاکربلاک کردیابعدمیں نعش اٹھاکردوبارہ میلادچوک پہنچے ،وہاں بھی ٹائرجلاکرآگ لگائی اورسڑک کوبلاک کردیا،اس دوران بعض مظاہرین نے وہاں موجودپولیس حکام کاراستہ روکا،انکے ساتھ گھتم گھتاہوگئے ،جس پرپولیس نے مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کی شیلنگ اورہوائی فائرنگ کابھی سلسلہ شروع کردیا،مظاہرین نے نعش تھانہ کے سامنے رکھ کرتھانہ اورڈی ایس پی آفس پرشدیدپتھراؤکیا،جس سے دفاترکے شیشے بھی ٹوٹ گئے ،فائرنگ تشدد،پتھراؤسے ایک دس سالہ لڑکاقاسم اورپولیس اہلکاراصغربھی زخمی ہوگئے،حالات کی سنگینی کے سبب مانسہرہ کے تھانوں سے پولیس نفری کوطلب کیاگیا،ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی گئیں،بعدازاں سابق صوبائی وزیرحاجی ابرارحسین تنولی اوردیگرشخصیات بھی تھانہ پہنچ گئے،ایس پی ہیڈکوارٹرمانسہرہ عارف جاوید،ڈی ایس پی اوگی بشیرخان سے مذاکرات کئے،مقتول کے والدنیازمحمدکی موجودگی میں حاجی ابرارحسین تنولی نے یہ یقین دہانی حاصل کی ،کہ 24گھنٹوں کیاندراندرنامزدملزمان کوگرفتارکرکے غفلت کے مرتکب پولیس والوں کومعطل کیاجائیگا،جس سے پولیس حکام نے اتفاق کیا،جس پرحاجی ابرارحسین تنولی نے تھانہ سے باہرآکرمین گیٹ پربعدازاں میلادچوک میں مظاہرین سے خٰطاب کیااورکہاکہ اگرورکے لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ایک غریب کے بچے کے قتل پرانصاف کیلئے اتنابڑااحتجاج کیاہے،ہم آپ عوام اورمظلوم خاندان کے ساتھ ہیں، 24گھنٹوں میں ہمارے مطالبات پرعملدرآمدنہیں ہواتوپھرحاجی ابرارحسین تنولی خودبازپرس کرے گا،اس چوک میں آپ کے ساتھ کھڑے رہے گا،ایسااحتجاج کرینگے کہ تاریخ یادرکھے گی۔
وان عادل بہیمانہ اندازمیں قتل کردیاگیا،لواحقین کوآگاہ کئے بغیرپوسٹ مارٹم اورلواحقین کومبینہ طورپر چھ گھنٹے بعداطلاع پرجمعرات کی صبح عباس بانڈہ ومضافات کے سینکڑوں لوگوں نے مقتول کی نعش کی چارپائی میلادچوک اوگی میں رکھ کرسراپااحتجاج بن گئے اورلواحقین کوعدم اطلاع کوپولیس ملی بھگت قراردیکرایس ایچ اواورپوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرکی معطلی کامطالبہ کیا،احتجاج میں اوگی کی تاجربرداری کی ا کثریت بھی دکانیں بندکرکے شامل ہوگئی،احتجاج سے اوگی مانسہرہ روڈچار گھنٹے تک ٹریفک کیلئے بندسینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،مظاہرین اورپولیس میں تصادم فائرنگ،پتھراؤ،آنسوگیس کے شیل پھینکنے سے پولیس اہلکارسمیت دوافرادزخمی کئی لہولہان بھی ہوگئے، پولیس نے مذاکرات کی کوشش کی مگربات نہیں بن سکی،اس دوران حلقہ PK33سے امیدوارصوبائی اسمبلی شہریارخان نے ڈی ایس پی سے مذاکرات کئے اورمقتول کے لواحقین کے بنیادی مطالبات کاانہوں نے چوک میں آکراعلان کیاکہ وہ تسلیم کرلئے گئے ہیں،آپ احتجاج کوختم کردیں،مگرانکی بات کوسننے کی بجائے احتجاج میں شامل لوگ نعش والی چاربائی کندھوں پراٹھاکرمانسہرہ روڈپرتکیہ چوک لے گئے،جس سے اوگی مانسہرہ مصروف ترین شاہراہ بھی ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بندہوگئی اورشدیدگرمی میں سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں،اے سی اوگی شبیراحمدآکاش،ڈی ایس پی بشیرخان،شہریارخان،صدرایوان تجارت سربلندخان،چیرمین ڈی آرسی حاجی رفیع الدین،مولاناعبیدالرحمن حیدری نے سٹیج پرآکرمظاہرین سے بات کی کوشش کی اورکہاکہ آپ کے مطالبات کوتسلیم کرلیاجائیگاآپ احتجاج ختم کریں،لیکن بعض افرادنے اس موقع پرسٹیج پرکھڑے لوگوں پربھی لعن طعن کی اورکہاکہ جب تک ایس ایچ اواورمتعلقہ ڈاکٹرکویہاں مظاہرین کے سامنے لاکرمعطل اورہتھکڑیاں نہیں لگائی جائیں گی،وہ یہاں سے نہیں جائیں گے،مقتول کے لواحقین بھی بے بسی کی تصویربنے رہے، مظاہرین نے پہلے ٹائرجلاکرمانسہرہ روڈکوآگ لگاکربلاک کردیابعدمیں نعش اٹھاکردوبارہ میلادچوک پہنچے ،وہاں بھی ٹائرجلاکرآگ لگائی اورسڑک کوبلاک کردیا،اس دوران بعض مظاہرین نے وہاں موجودپولیس حکام کاراستہ روکا،انکے ساتھ گھتم گھتاہوگئے ،جس پرپولیس نے مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کی شیلنگ اورہوائی فائرنگ کابھی سلسلہ شروع کردیا،مظاہرین نے نعش تھانہ کے سامنے رکھ کرتھانہ اورڈی ایس پی آفس پرشدیدپتھراؤکیا،جس سے دفاترکے شیشے بھی ٹوٹ گئے ،فائرنگ تشدد،پتھراؤسے ایک دس سالہ لڑکاقاسم اورپولیس اہلکاراصغربھی زخمی ہوگئے،حالات کی سنگینی کے سبب مانسہرہ کے تھانوں سے پولیس نفری کوطلب کیاگیا،ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی گئیں،بعدازاں سابق صوبائی وزیرحاجی ابرارحسین تنولی اوردیگرشخصیات بھی تھانہ پہنچ گئے،ایس پی ہیڈکوارٹرمانسہرہ عارف جاوید،ڈی ایس پی اوگی بشیرخان سے مذاکرات کئے،مقتول کے والدنیازمحمدکی موجودگی میں حاجی ابرارحسین تنولی نے یہ یقین دہانی حاصل کی ،کہ 24گھنٹوں کیاندراندرنامزدملزمان کوگرفتارکرکے غفلت کے مرتکب پولیس والوں کومعطل کیاجائیگا،جس سے پولیس حکام نے اتفاق کیا،جس پرحاجی ابرارحسین تنولی نے تھانہ سے باہرآکرمین گیٹ پربعدازاں میلادچوک میں مظاہرین سے خٰطاب کیااورکہاکہ اگرورکے لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ایک غریب کے بچے کے قتل پرانصاف کیلئے اتنابڑااحتجاج کیاہے،ہم آپ عوام اورمظلوم خاندان کے ساتھ ہیں، 24گھنٹوں میں ہمارے مطالبات پرعملدرآمدنہیں ہواتوپھرحاجی ابرارحسین تنولی خودبازپرس کرے گا،اس چوک میں آپ کے ساتھ کھڑے رہے گا،ایسااحتجاج کرینگے کہ تاریخ یادرکھے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook