ٹی ایم اے اوگی کرپشن اورکمیشن کاگڑھ بن چکاہے،جسکے ذمہ دارٹی ایم اوہیں،نیب ،انٹی کرپشن فوری ایکشن لیکرٹی ایم اے کاریکارڈقبضہ میں لیں،ہربے قاعدگی کاثبوت دینے کوتیارہیں،کمیشن کے نام پرجیبیں بھرنے والوں کے خلاف ایکشن نہ لیاگیاتواحتجاج کاراستہ اپنانے سے بھی دریغ نہیں کیاجائیگاان خیالات کااظہارکنٹریکٹرزایسوسی ایشن اوگی کے سابق صدرگل رحیم خان نے راشدبابر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا،انہوں نے کہاکہ ٹی ایم اے اوگی میں کمیشنوں کی بھرمارنے ٹھیکیداروں کاستیاناس کردیاہے،پہلے چھ فیصد کمیشن تھا،اب حیلے بہانوں سے کمیشن کودس فیصدتک پہنچایاگیاہے،اپروول اورورک آرڈرکے نام پربھی الگ تین فیصدکمیشن مانگاجارہاہے جوٹی ایم اوکے منظورنذرلوگ ہیں،ان کوکام کئے بغیرمٹھی گرم کے عوض ایڈوانس میں پے منٹ بھی کردی جاتی ہے،مگرجوٹھیکیدارصحیح کام کرتے ہیں،مقامی ہیں،وہ کام مکمل بھی کرلیں،توکمیشن کی خاطرانہیں ذلیل وخوارکیاجاتاہے،انہوں نے کہاکہ گزشتہ روزبھی ہمارے سامنے جس ٹینڈرکاایک ٹھیکیدارنے 27فیصدبیلوریٹ ڈالاتھا،ٹی ایم اونے اسکی بجائے دس فیصدبیلووالے کوٹھیکہ دیدیا،ٹی ایم اوخودبھی بندربانٹ کااعتراف کرچکے ہیں،انکاٹھیکیداروں کوبلوں کی ادائیگی بندکرنے کااعلان اورانجینئرنگ سٹاف پرالزام تراشی کے پیچھے بھی الگ کہانی ہے،جس سے اگلے چنددنوں میں پردہ اٹھائیں گے،اسوقت کئی تحصیل ممبران اوراراکین اسمبلی جس طرح 2017/18کی نامکمل سکیموں کارونارورہے

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top