تھانہ اوگی کے گاؤں عباس بانڈہ میں قتل ہونے نوجوان کے کیس میں نامزددونوں ملزمان کو24گھنٹوں کے اندراندرپولیس نے گرفتارکرلیا،ایک ملزم کے قبضہ سے آلہ قتل پستول بھی برآمدکرکے قبضہ میں لے لیاجبکہ تھانہ پرپتھراؤ،توڑپھوڑاورسڑکیں بلاک کرنے کی پاداش میں ڈی ایس پی نے قانون شکن عناصرکے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کابھی اعلان کردیا، یہاں ہنگامی پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی اوگی بشیرخان نے ایس ایچ اوساجدفاروق اورانچارج انوسٹی گیشن انسپکٹرجہانزیب خان کی موجودگی میں بتایاکہ عادل قتل کیس میں ملزم صدیق کوپولیس نے گزشتہ روزگرفتارکیا،بعدمیں اسکے والدثواب خان کوبھی گرفتارکرلیاگیا، انہوں نے کہاکہ پولیس کوجب نعش کی اطلاع ملی،توہم اسے ہسپتال لائے،لواحقین کوباقاعدہ اطلاع دی،جسکاریکارڈثبوت موجودہے،مقتول کے لواحقین کی دعویداری پرملزمان صدیق اسکے والدثواب کے خلاف قتل کامقدمہ درج کرکے ملزمان کوگرفتاربھی کیا،لیکن اس سب کے باوجودلواحقین کوپوسٹ مارٹم کی عدم اطلاع کوجوازبناکرمقتول کی نعش چوک میں رکھی گئی،سڑکیں بندکرکے احتجاج کیاگیا،احتجاج لوگوں کاحق ہوتاہے،لیکن کسی مطالبہ کیلئے احتجاجکیاجاتاہے،یہاں علاقے کے سیاسی وسماجی شخصیات ،انتظامیہ،پولیس سب نے مظاہرین سے مذاکرات کئے،میں خوددوبار گیا،لیکن مقتول کے لواحقین کی بجائے اوربعض شرپسندعناصرنے معاملات سلجھانے کی بجائے احتجاج توڑپھوڑپراکسانے کی کوشش کی،اوگی جیسے پرامن علاقہ میں تھانہ پولیس پرپتھراؤ،فائرنگ ہوئی،پولیس نے اپنے دفاع میں شیلنگ اورہوائی فائرنگ کی،انہوں نے کہاکہ ہماری بنیادی مقصدمقتول کے لواحقین کوانصاف فراہم کرکے قتل کیس کے اصل حقائق سامنے لاناہے،تاہم جن لوگوں نے شرپسندی کی ہے،کیمرے کی آنکھ نے انکی تمام حرکات وسکنات محفوظ کی ہیں،ان میں منشیات فروشوں سے لیکرکچھ سوزوکی ڈرائیور،ریڑھیوں والے دیگرعناصرپیش پیش تھے،جن کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹاجائیگا،تاکہ آئندہ کسی کودوسروں کی نعشوں پرشہرکاامن تباہ کرنے کی جرات بھی نہ ہوسکے،شرپسندعناصرآخرکسی کے بیٹے بھانجے،بھتیجے ہونگے،جنہوں نے اپنے بزرگوں ،شہرکے شرفاء ،سیاسی عمائدین کی بات تک نہیں مانی،لوگوں کوخواہ مخواہ احتجاج پراکساتے رہے،جلداوگی میں مناسب جگہ پرڈی آئی جی اورڈی پی اوکی کھلی کچہری کے انعقادکابھی پروگرام بنایاہے،تاکہ سب کوبلاکران کی باتوں کوبھی سناجائے ،انکے سامنے بھی اپنی باتیں رکھی جائیں،اوگی تحصیل کاامن وامان کے حوالے سے پورے صوبے میں نام ہے،یہاں کے لوگ بھی امن کے داعی ہیں،جوشرپسندی کرکے شہرکاامن اورامیج تباہ کرنے کی کوشش کرینگے،قانون ہاتھ میں لیں گے توقانون انکے ساتھ سختی سے نمٹے گا،اس ضمن میں کسی رعایت کاکوئی سوال پیدانہیں ہوتا۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top