سابق صوبائی وزیرحاجی ابرارحسین تنولی نے کہاہے کہ گزشتہ روزاوگی میں عادل قتل کیس کے بعدپرتشدداحتجاج کے واقعہ نے عوام اورپولیس کے درمیان خلیج کوظاہرکیاہے،اوگی اگرورکے لوگ پرامن ہیں،جنکی شرافت،قانون کی پاسداری ،پولیس سمیت ہرمحکمہ سے تعاون ،مہمان نوازی کی شہرت ہرجگہ پھیلی ہوئی ہے، ان لوگوں کااتنے اشتعال میں آناکئی سوالات کوجنمدیتاہے،پولیس اورعوام کوایک دوسرے کے قریب لاکرہرقسم غلط فہمیاں دورکرنے کیلئے اخلاص کے ساتھ کرداراداکرناوقت کی ضرورت ہے،اس حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ ،ڈی پی اومانسہرہ سے بھی بات کروں گا،تاکہ اوگی جیسے پرامن علاقہ میں مستقل امن کے قیام کویقینی بنایاجاسکے،میڈیاسے گفتگومیں انہوں نے کہاکہ کسی بھی علاقہ میں پائیدارامن کے قیام اورجرائم پیشہ عناصرکے قلع قمع کیلئے پولیس کے ساتھ عوام کاتعاون ناگزیرہوتاہے،پولیس جرائم پیشہ عناصرکی بلاامتیازبیخ کنی کرے،لیکن شریف شہریوں کوعزت بھی ملنی چاہئے،جب پولیس خودکوشریف شہریوں سے دورکرلے گی،تواس سے ایک خلیج پیداہوگی جس سے غلط لوگوں کوموقع اٹھانے کاموقع ملے گا،انہوں نے کہاکہ پولیس حکام کواس جانب سوچنے کی ضرورت ہے،تاکہ بدشگونی ختم ہواورجواچھی روایات ہیں،انکومضبوطی کے ساتھ خوشگوارماحول میں پروان چڑھایاجاسکے،انہوں نے کہاکہ مقتول عادل کے لواحقین سے ہمیں آج بھی ہمدردی ہے،انشاء اللہ مقتول کے لواحقین کوضرورانصاف دیاجائیگا
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook