مقتول عادل کیس میں گرفتارایک ملزم نے اپنے جرم کااعتراف کرلیا،پریس کانفرنسکے موقع پرمیڈیاکے سوالوں کے جواب میں 14سالہ ملزم صدیق ساکن عباس بانڈہ نے بتایاکہ جمعہ کی شب گیارہ بجے انکے گھرکی عقب میں واقع کھڑکی کے ساتھ کسی کے ٹکرانے کی آوازآئی،میری والدہ نے مجھے جگایا،ہم دشمندارلوگ ہیں میرے والدثواب خان کوہستان میں تھا،میں نے اپناپستول لیکراٹھ گیا،تھوڑی دیربعدپھرکھڑکی کوکوئی دھکے دے رہاتھاتومیں نے اندرسے ہی گولی چلادی ،بعدمیں جب دیکھاتوباہرنعش پڑی تھی،جسے جانتانہیں تھااسلئے خودپیدل تھانہ آیااورپولیس کوتمام حقائق سے آگاہ کردیا،بعدمیں پولیس اورلوگوں کے ذریعہ پتہ چلاکہ مقتول کانام عادل اوراسی گاؤں کارہائشی تھا،مقتول کے والدثواب خان نے بتایاکہ میں لکڑمعاملات کے سلسلے میں کوہستان میں تھاصبح کے وقت مجھے اس واقعہ کی اطلاع ملی،ایک سال سے اس گاؤں میں رہائش ہے،پہلے بھی تین سال رہ چکے ہیں،مقتول سے کوئی دشمنی عنادبھی نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger

 
Top