ہمارے بیٹے جوان بیٹے عادل ساکن عباس بانڈہ کٹھائی کا قتل کیس کو خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ،اصل ملزمان کو بچاکر ایک کمسن بچے کو ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،ہمارا اصل ملزم ثواب دین اور اس کا بڑا بیٹا صدیق اکبر ہے ،کیس خراب کرنے کیلئے پولیس نے ملزم ثواب کے بڑے بیٹے کوبچاکرچھوٹے پرمقدمہ ڈال دیاہے،ہمارا اس کے کمسن لڑکے سے کوئی لینا دینا نہیں ،چیف جسٹس ،ڈی پی او ،ڈی ایس پی اوگی ہمیں انصاف دیں،کمسن لڑکے کواس کیس میں ڈالناہی بدنیتی کوناانصافی کی سب سے بڑی دلیل ہے، کیونکہ کمسن ہونے کی وجہ سے وہ کل کو باہر نکل آئے گا،جس سے ہمارے بیٹے کاخون رائیگاں چلاجائیگا،ان خیالات کا اظہارجمعرات کے روزقتل ہونے والے نوجوان عادل کی والدہ بخت ملکئے ، والد نیاز نے ذوالفقار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا،انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے جواں سال عادل کوبے دردی سے قتل کرکے ظلم و ذیادتی کی گئی ،انصاف کیلئے بیٹے کی نعش سمیت اوگی چوک آئے مگرپھربھی انصاف نہیں دیاگیا،بلکہ ایک کمسن لڑکے کومیرے بیٹے کاقاتل بناکرکیس کاستیاناس کردیاگیا،مذکورہ کمسن لڑکا صدیق میرے بیٹے کو قتل نہیں کر سکتا بلکہ اس کابڑابھائی صدیق اکبراوروالدثواب ہمارے ملزم ہیں لیکن انکوبچانے کیلئے یہ ڈرامہ رچاگیاہے، اوگی پولیس نے وقوعہ کے روزبھی ہمارے ساتھ ناانصافی کی اب بھی ہمارے کیس کو بھی خراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور اصل ملزمان کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،انہوں نے کہاکہ کسی گاؤں میں مرغی گم جائے توسب کوپتہ چل جاتاہے،ہمارے جواں سال بیٹے کوقتل کیاگیا،ملزم پارٹی گاؤں کے ملک جہانگیرکےاراضی میں رہ کراسکوبھی اطلاع نہیں دی دوقدم پرمقتول کے ناناکاگھرتھا،اسکوبھی نہیں بتایاگیا،ہم نے میلاد چوک میں اپنے بیٹے کی نعش رکھ کر شدید احتجاج بھی کیا لیکن اس کے باوجود بھی ابھی مجھے انصاف نہیں ملا،انہوں نے کہاکہ کمسن لڑکے پر مقدمہ ہم نے نہیں درج کیا ،ہمیں بعد میں پتہ چلا ہے کہ مقدمہ کمسن لڑکے پر کر دیا گیا،ہمارے اصل ملزم کا نام صدیق اکبر اور اس کا والد ثواب دین ہے ،ہمیں انصاف اور اصل ملزم کو پولیس گرفتار کر ے،انہو ں نے چیف جسٹس سے اس کیس کاسوموٹوایکشن لینے اور آئی جی ،ڈی آئی جی،ڈی پی او ،ڈی ایس پی سے اصل ملزمان کی گرفتاری اورانصاف تحفظ کی فراہمی کامطالبہ کیاہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

ایک تبصرہ شائع کریں Blogger Facebook